ویب ڈیسک : ہیلتھ فائونڈیشن کے ذریعے نجی انتظام میں دیئے گئے سرکاری ہسپتالوں کو غیر قانونی طورپرکروڑوں روپے جاری کرنے اوریہ تمام پیسے فوری طورپرخرچ کرنے سے متعلق ایک نیا سکینڈل سامنے آگیا ہے اس سلسلے میں ایک اعلیٰ سطح انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے جس میں اس بڑے پیمانے پرہونے والی بے ضابطگی کی چھان بین کی جائے گی ذرائع کے مطابق ہیلتھ فائونڈیشن نے صوبہ کے مختلف اضلاع کے سرکاری ہسپتالوں کوٹھیکے پر دینے کیلئے مختلف کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کئے اور اس کیلئے محکمہ خزانہ کو پیسے جاری کرنے کی درخواستیں بھیجی گئیں تاہم اس معاہدہ کی روشنی میں محکمہ خزانہ کی جانب سے اعتراضات اٹھائے گئے
جس کے بعد ہیلتھ فائونڈیشن نے محکمہ قانون سے رابطہ کیا اور غیر قانونی طور پر آسانیاں دیں جس کی بنیاد پر مذکورہ ہسپتالوں کیلئے کروڑو ں روپے جاری کئے گئے اور یہ پیسے فوری طور پر خرچ بھی کئے گئے ذرائع نے بتایا کہ یہ ایک بہت بڑا سکینڈل ہے بنی بنائی عمارتیں، ملازمین کے انتظام کے ساتھ ٹھیکے پر دیئے گئے اور ٹھیکیدار کی ملی بھگت سے کروڑوں روپے محکمہ خزانہ سے غیر قانونی طورپر نکالے گئے اس واردات کیخلاف اب ایک اعلیٰ سطح انکوائری کمیٹی قائم کردی گئی ہے جس کی رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی کی جائے گی۔