خیبر پختونخوا حکومت اور اسمبلی کے خاتمہ سے صوبائی حکومت کے ترقیاتی منصوبوں پر کوئی فرق نہیں پڑے گا جبکہ چیف سیکرٹری اور انتظامی محکمے ضرورت محسوس ہونے پر تقرریاں اور تبادلے بھی کرسکیں گے ذرائع کے مطابق ترقیاتی منصوبوں کو فنڈز کا اجراء اور منظوری سمیت تقرریوں اور تعیناتیوں پر پابندی صرف اس صورت میں ہوتی ہے جب الیکشن شیڈول جاری کردیا جائے اس وقت صوبائی اور محکمانہ ترقیاتی پارٹیوں کے اجلاس بھی منعقد ہونگے جس میں ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی جا سکے گی
جبکہ محکمہ اسٹیبلشمنٹ صوبائی سطح پر اور انتظامی محکمے اپنے اندورنی سطح پر ملازمین کی تقرریاں اور تبادلے بھی کرسکیں گے صوبائی امور چلانے کیلئے اس وقت وزیر اعلیٰ موجود ہیں جبکہ نگران نظام میں بھی روزمرہ امور کے انجام دیئے جائیں گے تاہم ترقیاتی منصوبوں کو فنڈز کا اجراء اور اس پر کام کی رفتار پر حکومت اور اسمبلی نہ ہونے کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ الیکشن کمیشن اسمبلیوں کی تحلیل کے 90روز کے اندر اندر انتخابات کرانے کا پابند ہے جبکہ شیڈول جاری ہونے کے تقریبا 50روز میں پولنگ ہوتی ہے لہذا اس وقت الیکشن کمیشن نے پاس شیڈول جاری کرنے کیلئے تقریبا ایک ماہ سے زائد کا وقت موجود ہے ۔