وادیٔ سوات اپنی قدرتی خوبصورتی، دلکشی، دلفریب نظاروں کے لحاظ سے پاکستان کا ایک حسین خطہ ہے۔ قدرتی مناظر، شفاف ندیوں، بلند آبشاروں اور جنت نظیر مناظر کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے پرکشش تو ہے ہی اس کے ساتھ ساتھ یہ اپنی قدیم تاریخ کی وجہ سے تاریخ دانوں اور سیاحوں کی توجہ کا مرکز بھی ہے۔

سوات کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ دنیا کے پچاس اہم ترین آثار قدیمہ میں سے ایک ہے۔327 قبل مسیح میں اسے سکندر نے فتح کیا تھا اس کے علاوہ سوات گندھارا تہذیب کے اہم مراکز میں سے ایک تھا۔ علاوہ ازیں کئی تہذیبوں نے یہاں پرورش پائی، یہ علاقہ ہندوؤں کے لیے بھی مقدس مقام رہا ہے۔ ہندوؤں کی مقدس کتاب رگ وید میں یہاں بہنے والے دریا کو ’’سواستوو‘‘ کہا گیا ہے۔

سوات کسی زمانے میں بدھ مت کے پیروکاروں کے لیے ایک مقدس زمین ہوا کرتا تھا۔ بدھ مت کے پیرو کار اس کی زیارت کے لیے تبت، چین اور دوسری جگہوں سے زائرین باقاعدہ طور پر حاضری دینے کے لیے آیا کرتے تھے۔ ڈاکٹر لوکاماریا جوکہ ایک مشہور اطالوی ماہر آثار قدیمہ ہیں نے اطالوی آرکیالوجی میں خدمات انجام دیتے ہوئے سوات میں 27 سال گزارے۔

انھیں موجودہ دور میں ادھیان کا مستند عالم اور محقق مانا جاتا ہے (اُدھیانہ سوات کا پرانا نام ہے) ادھیانہ یعنی سوات کو گندھارا تہذیب کا حصہ مانا جاتا ہے لیکن بعض محققین کی رائے میں ادھیانہ ایک علیحدہ سلطنت تھی۔ اس وادی کے جنت نظیر ہونے کے علاوہ اس کے بدھ مت کے قدیم آثار زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ تاریخی رہائشی عمارتیں اور قدیم تہذیب کے آثار آج بھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔

ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق سوات میں اب تک دس فیصد بھی آثار کو دریافت نہیں کیا جاسکا۔ سوات میں مختلف جگہوں سے قیمتی آثار جس میں بدھا کے مجسمے اس وقت کے برتن، زیورات اور دیگر اشیا نکالی جاسکی ہیں۔ دنیا کا سب سے بڑا مجسمہ بھی سوات میں موجود ہے جسے ایک چٹان میں کندہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بھی سوات کے طول و ارض میں بدھ مت کے آثار بکھرے پڑے ہیں۔ سوات کا ذکر قدیمی کتب میں بھی ملتا ہے۔

ان قدیمی کتب میں اسے ’’ادھیانہ‘‘ کے نام سے لکھا گیا ہے جو سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ’’باغ‘‘ یا ’’گلستان‘‘ کے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ زمانہ قدیم سے ہی اپنی خوبصورتی کے لحاظ سے منفرد حیثیت کا حامل رہا ہے۔ شاید اس علاقے کی دلکشی مختلف ادوار میں مختلف اقوام کو حملہ آوری کے لیے راغب کرتی تھی۔ سکندر کے دور میں یونانی مورخین نے اس علاقے کا ذکر اس کے دریا سے کیا جسے موجودہ دور میں دریائے ’’رات‘‘ اور عہد قدیم میں ’’سواستوؤ‘‘‘‘ کہا جاتا تھا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ یہ لفظ سوئیتا سے نکلا ہے جس کے معنی سفید یا شفاف پانی کے ہیں۔ اس کے علاوہ اس کو صاف شفاف پانی کے ندی نالوں کی وجہ سے ’’سواستوؤ‘‘ یا ’’سوویتیا‘‘ پکارا گیا ہوگا جو بعد میں ’’سواد‘‘ اور پھر‘‘سوات‘‘ بن گیا۔سکندر کے حملے کے بعد 304 قبل مسیح میں جب اس کے سپہ سالار سینوکس نے ہندوستان پر دوبارہ حملہ کیا تو اس نے دریائے سندھ کے اس پر مفتوحہ علاقے جس میں سوات، بونیر وغیرہ کے علاقے بھی شامل تھے۔

ہندوستان کے راجہ چندرگپت موریا کے حوالے کردیے۔ چندرگپت موریا نے ان علاقوں کے باشندوں کو پوری مذہبی آزدی دی اور ان پر کوئی بے جا پابندی عائد نہ کی۔ چندرگپت موریا نے بدھ مت قبول کرلیا اور اپنے دور کا مشہور حکمران سمجھا جاتا ہے۔ سوات میں قدیمی عہد میں اس وقت نمایاں ترقی ہوئی جب یہاں بدھ مت کو عروج حاصل تھا۔بدھ مت کے جس قدر آثار سوات میں ملے ہیں اتنے آثار پاکستان کے کسی دوسرے علاقے میں نہیں ملے ہوں گے۔

بدھ مت دور کے بہت سے آثار دریافت کیے گئے، جب کہ ان سے کہیں زیادہ زمین کے سینے میں پوشیدہ ہیں۔ مہاراجہ اشوک کے بعد بدھ مت کا زوال شروع ہوا۔ہندوؤں نے سر اٹھایا بدھ مت کا زوال شروع ہوا تو ساتویں صدی عیسوی کے وسط میں بڑے منظم طریقے سے ہندو دھرم کی تبلیغ شروع کردی۔ ہندوؤں نے مختلف علاقوں میں اپنی راج دھانی قائم کر لی۔ گندھارا کے علاقے وقتاً فوقتاً بدلتے رہے کبھی یہ علاقے بالکل آزاد رہے اور کبھی کسی طاقت ور حکمران کے اقتدار میں رہے۔

بالآخر دسویں صدی عیسوی میں ہندو راجہ شقایا نے اس علاقے پر اپنا پرچم لہرایا تو اس کا اقتدار موجودہ صوبہ کے پی کے سے نکل کر افغانستان تک دکھائی دینے لگا۔گیارہویں صدی عیسوی کے آغاز میں جب سلطان محمود غزنوی نے افغانوں کے لشکر کی مدد سے ہندوستان پر حملے شروع کیے تو افغانوں کے لشکر کے سردار پیر خوشحال نے سوات کے بادشاہ گیرا کو شکست سے دوچار کردیا۔

اس جنگ میں پیر خوشحال خالق حقیقی سے جا ملے جن کا مزار سوات کے مشہور تاریخی گاؤں اوڈھی گرام میں آج بھی موجود ہے۔ اپنی تمام دلکشی اور تاریخی اہمیت کے باوجود تاریخ کے کسی دور میں وادی سوات میں کسی دیرپا حکومت کا پتا نہیں چلتا۔ تاہم یہاں کسی منظم حکومت کے قیام کا دھندلا سا عکس بدھ مت کے دور میں دکھائی دیتا ہے۔ اس وقت اس علاقے میں سڑکیں تعمیر ہوئیں، نئی نئی آبادیاں وجود میں آئیں۔

1527 میں مغل بادشاہ جب افغانستان سے ہندوستان پر حملے کی غرض سے جا رہا تھا، راستے میں کئی قبائل نے مزاحمت شروع کی۔ وہ جب خیبر پہنچا تو اسے اپنے اندازوں کے برعکس ایسے لوگوں سے واسطہ پڑا جو جوانمردی اور بہادری میں اپنے علاقے کے تحفظ کے لیے سب کچھ قربان کردینے کے لیے آمادہ تھے۔

انھوں نے ظہیر الدین محمد بابر کو اپنے علاقوں سے گزر جانے کی اجازت نہ دی بعد میں یوسف زئی قبیلے کے سردار شاہ منصور کی بیٹی بی بی مبارکہ سے شادی کے بعد یوسف زئی اور بابر کے درمیان مفاہمت ہوئی اور یوسف زئی قبیلے کے بہت سے جنگجو بابر کے لشکر میں شامل ہوئے۔ اس طرح بابر یہاں سے ہوتا ہوا ہندوستان فتح کرنے میں کامیاب ہوا۔ بابر کے مرنے کے بعد مغلیہ دور کے شہنشاہ محمد ہمایوں نے سوات کو بہ زور شمشیر فتح کرنا چاہا لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکا۔

سوات صدیوں سے قبائلی دور سے گزر رہا تھا۔ 1850 میں آخوند صاحب سوات سیدوبابا نے سوات اور بونیر کے باشندوں کے مشورے سے آستانہ کے رئیس سید اکبر شاہ کو سوات کا بادشاہ منتخب کیا۔ شریعت اسلامیہ کے نام سے حکومت نے کام شروع کیا اس دوران ہندوستان کی جنگ آزادی 1857 کا آغاز ہوا۔ اس قت جب مذکورہ جنگ کی خبریں سرزمین سرحد میں پہنچنے لگی تھیں۔

11 مئی 1857 کو سید اکبر شاہ وفات پا گئے ان کے انتقال سے اولین حکومت کا بھی خاتمہ ہو گیا۔ انگریزوں کو اس حکومت سے جو خطرہ درپیش تھا اس کا اندازہ سربرٹ ایڈورڈ کے ان الفاظ سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے وہ لکھتا ہے اگر سوات میں شرعی حکومت اور جنگجو قبائل کا سربراہ سعید اکبر شاہ زندہ ہوتا تو 1857 کی جنگ کا نقشہ کچھ اور ہوتا۔