ویب ڈیسک :خیبر پختونخوا میں بچوں کی بیماری خناق کی وبائی صورتحال اور حفاظتی ٹیکوں سے متعلق تفصیل وفاقی حکومت نے طلب کر لی ہے محکمہ صحت کے ذرائع نے بتایا کہ خناق کی بیماری دنیا بھر میں ختم ہوچکی ہے اور اس کیلئے دوائوں کی تیاری بھی بند کی گئی ہے تاہم گذشتہ چار سالوں سے خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں خناق کے کیس رپورٹ ہورہے ہیں جبکہ بڑے پیمانے پربچوں کی اموات بھی رپورٹ ہورہی ہیں رواں برس بھی صوبہ کے جنوبی اور شمالی اضلاع میں غیر متوقع طورپر خناق کے کیس رپورٹ ہوئے ہیں اور16سے زائد بچوں کی موت واقع ہوئی ہے
ذرائع نے بتایا کہ اس بیماری کے پھیلنے کی بڑی وجہ حفاظتی ٹیکہ جات کی کم ترین شرح ہے ہرسال بمشکل55سے58فیصد تک بچے موذی امراض کیلئے ویکسی نیٹ ہورہے ہیں اور باقی بچے بغیر کسی ٹیکہ کے معاشرے میں پل بڑھ رہے ہیں جس کی وجہ سے مسائل سامنے آرہے ہیں
ذرائع نے بتایا کہ یہ بیماری ختم ہوگئی ہے اور اس کیلئے دوائی موجود نہیں اس لئے صرف ویکسی نیشن کے ذریعے بچوں کو محفوظ کرنے کی منصوبہ بندی ہے اس مقصد کیلئے وفاقی حکومت نے خیبر پختو نخوا میں خناق سے متعلق صورتحال پر رپورٹ طلب کر لی ہے اور ایک میڈیکل ٹیم بھی بھیجنے کا فیصلہ کیاگیا ہے محکمہ صحت کو حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام سے متعلق معلومات کی فراہمی کا ہدف بھی دیا گیا ہے۔